Tuesday, 11 August 2015

Chati Sadi Hijri kay Mujadid


(چھٹی صد ی ہجری کے مجدد)
تحریر : *رضوان یوسف*



انسان بنیادی طور پرمادہ اور روح کامجموعہ ہے۔اسی طرح علوم بھی بنیادی طور پر دوطرح کے ہیں۔طبیعاتی اور ماورالطبیعا تی،مادی اورروحانی دنیاوی اور مذہبی،فزیکل اورمیٹافزکل۔اسلام ایک مکمل دین اور انسان کی بنیادی ضرورت کوپورا کرنے کیلئے دونوں کی اجازت دیتاہے لیکن ساتھ ہی مادہ کو روح یادنیاکودین کے تابع رکھنے کا حکم دیتا ہے۔اورایک توازن کی کیفیت قائم کرتے ہوئے اعتدال پیدا کرتاہے۔خرابی اس وقت پیداہوتی ہے۔جب کسی شعبے میں سے دنیا اور آخرت کے حوالے سے سوچ کے توازن کو ختم کردیا جائے۔یہ صورتحال فتنہ پر منتنج ہوتی ہے۔چوتھی اورپانچویں صدی ہجری میں بغداد کے بعض عباسی حکمرانوں نے یونانی لٹریچرکاوسیع پیمانے پر عربی میں ترجمہ کروایا لیکن ظاہری وباطنی علوم کے ماہرین کی بجائے صرف ظاہری علوم کے حامل اور ماہرلسانیات کوہی اس کام پرما مور کیاگیا۔اسلامی فلسفہ ونظریات سے متصادم یہ یونانی علوم اپنی ظاہری چمک دمک کی وجہ سے امت کے وسیع طبقے کو گمراہ کرنے لگے نظر یات کسی شحض یاقوم دونوں کیلئے بہت ا ہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔کیونکہ ہرانسانی عمل کے پیچھے کوئی ناکوئی نظریہ، سوچ یا فلسفہ ہی ہوتاہے۔اوراگرفلسفہ ہی گمراہ کن ہوتو عمل کے بارے میں کیا کہاجاسکتاہے اوریونانی فلسفہ کی نبیاد مادیت پرستی پرتھی اوراسکاشجرہ نسب اس فلسفہ سے ملتا ہے جس نے آدمؑ کوجنت سے نکال باہرکروایا۔آہستہ آہستہ اسلامی سوسا ئٹی علم وفضیلت اور عزت ومر تبہ کا معیاربنتاجا رہاتھااورمسلمان اپنی دینی ضروریات اور اقدار کوبھول کر جدید یونانی فلسفے کے پیروکاربنتے جارہے تھے۔جگہ جگہ بحث ومناظرہ کی بے سودمحفلوں کے ذریعے فردعی اختلا فات ،خدا کے وجود کا ہو نا،یانہ ہونا ،قیامت کاآنایانہ آنا،خداکی ماہیت وغیرہ کے متعلق سوالات اُ ٹھائے جارہے تھے۔عوام الناس بالنحصوص سادہ لوح مسلمان اورعلمائے کرام یونانی فلسفے کے پیروکاروں کے سوالات سن کرذہنی انتشارکاشکاراور حقیقت سے دورہورہے تھے۔اسی صورتحال میں اہل ایمان اللہ کی طرف سے کسی عظیم شخصیت کا انتظار کرنے لگے جوامت محمد ﷺ کے خزاں ر سیدہ گلشن میں ہوا کاتازہ جھونکابن کرآئے۔ہمیشہ تبد یلی وہی لوگ لاسکتے ہیں جومنجانب اللہ منتنحب ہوکرآئیں۔
slection not election)) ۔ انبیاء کرام ،مجدد، اولیاء کرام وغیرہ کوکوئی قوم رائے دہی (vote )کے ذریعے متنحب((electنہیں کرتی بلکہ اللہ اُنکومنتخب(slect ) کرکے بھیجتاہے۔ لہذا موجودہ سخت دورمیں بھی اللہ کی کوئی ایسی شخضیت ضرورہوگی ’’مگرمسلمانوں کو اُسے تلاش کرنے کی فرصت نہیں‘‘ ۔یونانی فلسفے کاطوفان بھی بغداد میںآیاہوا تھااور اللہ کی مشیت نے بھی تجدید دین کیلئے حضرت محی ا لدین الشیح عبدالقادر جیلانی (المعروف غوث الاعظمؒ )کوبغداد ہی میں بھیجا ۔آپؒ نے بغداد میں پانچ سوگیارہ ہجری میں با قاعدہ تدریسی کام کاآغازفرمایا اور کچھ ہی عرصہ میں آپ کے دار لعلم میں ساڑھے سات سو کے قریب طلباء نے داخلہ لے لیا۔وہ علوم اسلامی کے انوار سے اپنے قلو ب کو منور اور ایمان ویقین اور اعتقادات ونظریات سے اپنے عقل وخر دکوپاکی بحشنے لگے ۔آپ کے وعظ ونصیحت کی بدولت عام عوام کے ذہنوں میں مثبت تبدیلی واقع ہوئی۔ آ پؒ نے دلائل سے لوگوں کے مادی فلسفہ زدہ ذہنوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ جدید علوم کو پڑھ کر آ پ بادشاہوں کے دربار میں ملازمت اختیار کر سکتے ہیں، کسی امیر یا نواب کے منشی تو بھرتی ہو سکتے ہیں لیکن اس سے آپ اپنے ایمان کی دولت سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے ،اللہ سے آپکا تعلق ٹوٹ جائے اور شفاعت محمدی ﷺسے محروم ہو جائیں گے ۔آپ کی دنیا تو آسائشوں سے بھرپور ہوگی مگر آخرت برباد ہو جائے گی ۔غرض یہ کہ مادی علوم کی انتہا پسندی کو ختم کرنے کیلئے اور مادہ اور روح کا توازن بحال کرنے کیلے روحانی علوم اور فقر محمدی ﷺ اختیار کرنے کی تعلیم فرمائی ۔صلاح الدین سعیدی صاحب آپ کی دی ہوئی ایک مثال کاذکریوں کرتے ہیں۔’’ایک آدمی اگر بھوکاہے تو کسی طرحْ اس کاگزر ہو جائے گالیکن ایک آدمی کے آگے رنگ برنگے کھانے چنے ہوئے ہیں مگراس میں زہر کی آمیزش ہے بتائیے کہ اسکوموت سے کون بچا سکتا ہے بتائیے کہ وہ بھوکا رہنے والاشخص عقلمند ہے یایہ زہرپلا کھانا کھانے والا ۔لہذااس چندروزہ دنیامیں فقروقناعت کے ساتھ زندگی گزارلولیکن دنیا کی رنگینی پرفریفتہ ہو کر دین کوہاتھ سے نہ جانے دو ۔‘‘ 
آپؒ کی تحریرو تقر یرنے جہاں درویش وفقراکواپنی طرف کھینچا وہاں عام لوگ بھی متا ثر ہوئے بغیرنہ رہ سکے اور آپکے مواعظ میں لاکھوں کامجمع ہونے لگا اور دین حق کی وفاداری اور محبتِ اسلام کو فروغ ملا ۔یہودیوں کی درپردہ سازش اور دین اسلام کی سمجھ نہ رکھنے والے علماء اسلام کی بدولت ایک غلط نظریہ اسلام کی تبلیغ کو غیرسیاسی قراردیناتھاکہ اسلام کامقصد صرف مسلمانوں کو نماز ،روزہ اور عبادات کاایک نظام دینا ہے ۔حالانکہ بقول علامہ اقبال ؒ اگردین کو سیاست سے جدا کردیا جائے تو حاصل چنگیزیت ہے ۔ لہذا جہاں اسلام ایک مذہبی نظام دیتاہے وہاں ایک سیاسی نظام بھی دیتاہے جسکے مطابق مسلمانوں کاحاکم اللہ کانائب ہے اور وہ ہر معاملے میں اپنے آپ کو اللہ جل جلالہُ کے سامنے جوابدہ سمجھے حضرت نے اس حوالہ سے سیاست کی تطہیر کاکام بھی شروع کردیا اور حکمرانوں کی مطلق ا لعنانیت پر ضرب لگاتے ہوئے اُنہیں زبردست بے خوف تنقیدکانشانہ بنایا جس سے دبے ہوئے عوام کو زبردست حوصلہ ملااور حکمرانوں کابے جارعب ودبدبہ خاک میں مل گیا ۔ جہاں حضرت ؒ نے اسلام کے مذہبی وسیاسی نظام پر کام کیا وہاں اسلام کے معاشی نظام پر بھی خاظر خواہ توجہ دی جس کو اکثر علماء تبلیغ اسلام سے حذف کر دیتے ہیں اس سلسلے میں ایک واقعہ قار ئین کی دلچسی کاباعث ہوگا ۔’’ایک عباسی خلیفہ مستنجدباللہ ایک دن حضرتؒ کے مد ر سے میں آیا اور اشرفیو ں کی ایک تھیلی آپ کی نذز کی آپ نے وہ تھیلی اپنی مٹھی میں لیکر بھرے مجمع میں نچوڑ ی تواس میں سے خون بہنے لگا ۔یہ منظردیکھ کر خلیفہ کاسارہ کر وفراورشاہی جاہ وجلال خاک میں مل گیا اور عوام آپ کی روحانی طاقت کی اس کرامت پربہت لطف اندوز ہوئے پھرآپؒ نے حاکم وقت کو للکارا اور اشرفیوں کی تھیلی کو خلیفہ کی طرح اچھالتے ہوئے جلالی انداز میں فرمایا ’’عوام کا خون نچوڑتے ہواورہمیں نذرانے دیتے ہو‘‘۔
اسلام کے علمی ونظریاتی نظام کے حوالے سے پا نچ سو ستاون ہجری میں آپ نے تربیت یافتہ خلفا ء اور تلامذہ کو تبلیغی اغراض ومقاصد کے تحت مختلف بر اعظمو ں ملکوں اورشہروں میں تعینات کیا جوآپکی تحر یک کی بین الاقوامی حیثیت اور حقیقی اسلامی تحریک ہونے کامظہر ہے ۔ آپ ؒ کے شاگردان عظیم خلق کے مالک ‘ راہ خدامیں سادہ کھانا کھانے ‘معمولی لباس پہنے والے ‘دینی علم واشاعت میں سرگرداں رہنے والے فاقوں کی حالت میں بھی دوسروں کیلئے آسانیاں پیداکرنے والے تھے اُنکی حکمت افروز گفتگو اہل علم کواُنکے آگے جھکنے پرمجبور کر دیتی اور کردار پردیسں کے اجنبی لوگوں کے دل موہ لیتا ۔ یہ روحانی سفیر جہاں بھی گئے فتوجات نے ان کے قدم چومے ۔ حضرتؒ نے اسلام کے علمی ،سیاسی، سماجی اور معاشی ومعاشرتی نظام کے ساتھ ساتھ عسکر ی وجنگی نظام کے حوالے سے قابل ذکر کام کیا کیونکہ اسکی تبلیغ و اشاعت کے بغیر دین نامکمل ہے ۔ اور اسکابالواسطہ تعلق نظریاتی انقلاب سے ہوتا ہے ۔مردار دنیا کی جنت ‘آرام و آسائش کاطالب لعین کتا (حدیث نبویؓ کے مطابق ) اس چیز سے ہمیشہ نظربچاتاہے اور طرح طرح کی دلیل وتاویل کی تلاش میں رہتاہے ۔ یہ حضرتؒ کافیض تھا کہ ایک عظیم شاگرد اور عقیدت مند حضرت سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے مصر،شام اور بیت المقدس میں شاندارفتوحا ت کے بعد اسلامی سلطنت قائم کی اور اسلام کو نیست ونابود کر نے کی خاطر شروع کی جانے والی صلیبی جنگوں کا منصوبہ خاک میں ملادیا۔ آج یہ عجیب وغریب مقولہ تو ہماری زبان پر ہے کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کاہاتھ ہے جوبات ان انبیاء اور اولیا ء کے حوالے سے سو فصید درست ثابت نہیں ہوتی ۔ مگر ہم یہ نہیں سمجھتے کہ ہرعظیم مردمومن کے پیچھے کوئی نہ کوئی ولی اللہ ضرور ہوتاہے ۔ حضرت ؒ نے دین کی تبلیغ کی خاطر اور سرکاردو عالم ﷺ کے حضور میں ثواب پہنچانے کیلئے ایک ماہانہ محفل کو رواج دیاجو ہر اسلامی مہینے کی گیارہ تاریخ کو بڑی شان وشوکت سے انعقادپذیر ہوتی تھی ۔ اسکامقصد مسلمانوں کی ذہنی ،فکر ی اخلاقی اور معاشرتی تربیت فر ماکر ایسے عظیم لوگوں کی کھیپ تیارکرتاتھاجو مسلما نوں کو ٹھو س قیادت فراہم کر سکے اور نت نئے فتنو ں اور فیشنوں کامؤ ثر انداز میں سد باب کرسکے مگرافسو س کہ شاھینوں کانشیمن گدھوں کے ہاتھ میں آنے سے اصل مقصد فوت ہوچکا ہے ۔ حضرت ؒ کی تحریک میں سے کھانے پینے اور پیٹ پوجا والے نظام کو فیض حاصل کر نے کے نام پر تو باقی رکھاگیا لیکن اُنکی تحر یک کے اصل مقصد کاجنازہ نکال کر اُ سکو دفن کر دیاکیو نکہ وہ اِن زرق برق لباسوں میں ملبو س عام بھو لے بھالے عوام اور اپنے منہ پرتعریفیں سن کرباغ باغ ہونے والے ظاہری اسلام کا لبادہ اُوڑھے ہوئے معزز مولویا نِ کرام کے نفس پربھاری بوجھ تھا۔بالکل اس طرح جیسے حضورنبی کریم ﷺکے جانے کے بعد حضرت امام حسینؓ اِن کیلئے بوجھ تھے ۔ کیونکہ وہ خلافت اسلامیہ کے داعی تھے ۔ ہم آج اکثریت کی نسبت حضور سیدنا عبدالقادرجیلانی ؒ کے رواج کر دہ لنگر گیارویں شریف کے ساتھ ہی کیوں رہ گئی ہے جبکہ بزرگان دین کے پیشِ نظرلوگوں کوکھاناکھلاکرسستی شہرت حاصل کرنا قطعاًمقصودنہیں رہابلکہ اُن کے پیچھے کوئی خاص تبلیغی مقصد کارفر ماہوتا تھا ۔ ہمیں جدید الحادی یونانی فلسفے کے خلاف اُ نکی مسلسل جنگ دین اسلا م کی احیاء اوراسلام کے معاشی ،معاشرتی ،سیاسی ، سماجی ، مذہبی نظام کے عملی نفاذ سے کوئی نسبت کیوں نہیں ؟ ہمیں اپنے طرزعمل کی اصلا ح کی ضرورت ہے ۔ صرف چوری کھانے والے مجنو ن نہیں بنناچاہیے ۔ بلکہ اس حقیقت کوبھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ حضرت ؒ ایک کامل ومکمل تحریکِ اسلام ہیں ۔

No comments:

Post a Comment